ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپورٹس / ایران اور شمالی کوریا کے درمیان میزائل پروگرام میں تعاون کے راز

ایران اور شمالی کوریا کے درمیان میزائل پروگرام میں تعاون کے راز

Mon, 08 May 2017 19:35:43    S.O. News Service

نیویارک،8مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مغربی دنیا کی رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ منگل کو تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آبدوز سے کروز میزائل داغے جانے کا تجربہ.. ایران اور شمالی کوریا کے درمیان میزائل پروگرام کے وسیع تر تعاون کا مظہر ہے۔امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کی جانب سے جاری رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ تہران نے پہلی مرتبہ اپنی کسی آبدوز سے زیرِ سمندر میزائل داغنے کا تجربہ کیا۔ یہ تجربہ شمالی کوریا کے ذمے داران کے تعاون سے عمل میں آیا جو اس شعبے میں عسکری تجربے اور مہارت کے حامل ہیں۔امریکی چینل ’’فوکس نیوز‘‘ نے Middlebury Institute of International Studies میں میزائلوں کے امور کے ماہر جیفری لوئس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران میں نظر آنے والے ابتدائی میزائل محض شمالی کوریا کے میزائلوں کی کاپی تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے شمالی کوریا اور ایران کے ذمے داران کو ایک دوسرے کے ملک میں دیکھا اور ہم ہر قسم کی مشترکہ مشینری بھی ملاحظہ کر چکے ہیں۔ادھر بحر الکاہل میں سرگرم امریکی بحریہ کے کمانڈر ہیری ہیرس کا کہنا ہے کہ " ایران انتہائی خاموش بیٹریوں کے ذریعے پانی کے نیچے آبدوزوں کو چلاتا ہے لہذا ان کا انکشاف دشوار ہے۔ یہ اپنے طور پر چھوٹی آبدوزیں ہوتی ہیں جو گہرے پانی میں کام کر سکتی ہیں اور ان دور دراز فاصلوں سے ان کی موجودگی محسوس کیے جانے کا امکان نہیں ہوتا۔
ایران نے جنوری کے اواخر میں ’’خرمشہر‘‘ نامی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے 11 اکتوبر 2015 کو نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل ’’عماد‘‘ کا تجربہ بھی کیا تھا۔امریکی وزارت دفاع کے مطابق ’’خرمشہر‘‘میزائل شمالی کوریا نے ڈیزائن کیا تھا تا کہ ایران بھی ’’موسوڈان‘‘ جیسے میزائل کا تجربہ کر لے جو شمالی کوریا کے عسکری اسلحے خانے میں سب سے جدید میزائل شمار کیا جاتا ہے۔ان تجربوں کے بعد امریکی وزارت خزانہ نے فروری میں 30 شخصیات اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دیں جن کا تہران کے میزائل پروگرام کے ساتھ تعلق تھا۔امریکی کانگریس کے بعض ارکان نے سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے 1.77 ارب ڈالر آزاد کر کے ایران کے میزائل پروگرام کو ترقی دینے میں مدد کی۔
ایرانی وزیر دفاع جنرل حسین دہقان نے 15 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کو کروز میزائل فراہم کر دیے گئے ہیں۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2231 کو صریح چیلنج ہے جو جولائی 2015 میں ایران اور 52281 ممالک کے درمیان طے پائے جانے والے نیوکلیئر معاہدے کے بعد جاری ہوئی۔ اس قرارداد کے تحت ایران پر دور مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کے علاوہ بیلسٹک اور نیوکلیئر ہیڈ لے جانے کی قدرت رکھنے والے میزائلوں کے تجربات پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
ایران اور شمالی کوریا کے درمیان بیلسٹک میزائل بالخصوص میزائل ہیڈ کے شعبے میں تعاون میں اضافہ ہو گیا۔ گزشتہ چند برسوں میں دونوں ملکوں کے ماہرین کے متبادل دوروں کا سلسلہ جاری رہا۔ایرانی اپوزیشن کی رپورٹوں کے مطابق شمالی کوریا کے میزائل امور کے ماہرین بعض مرتبہ پاسداران انقلاب کے میزائل کمان مراکز میں کئی ماہ تک قیام کرتے ہیں۔ایرانی پاسداران انقلاب نے 1985 میں میزائل یونٹ قائم کیا اور 1993 میں شمالی کوریا کی ٹکنالوجی کے ذریعے نیوکلیئر ہیڈ لے جانے والے بیلسٹک میزائل تیار کرنا شروع کر دیے۔ یہ میزائل خطے کے کئی ممالک مثلا لبنان ، فلسطین ،یمن ، عراق اور شام میں ایرانی ملیشیاؤں کو بھیجے جاتے ہیں۔ علاوہ ازیں یمن سے سعودی عرب کی جانب داغے جانے والے بیلسٹک میزائل بھی پاسداران انقلاب کے تیار کردہ ہیں۔
تہران اور پیانگ یانگ کے درمیان تعلقات گزشتہ صدی میں 1980ء4 کی دہائی سے ہیں جن کی بنیاد امریکا کی مشترکہ دشمنی تھی۔ اسی قاعدے کے تحت مذہبی نظریے کے زیر کنٹرول نظام ایک سخت کمیونسٹ نظام کے ساتھ یکجا ہوا جو مذہب کو عوام کے لیے افیون شمار کرتا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان عکسری تعلقات میں مضبوطی اس وقت آئی جب شمالی کوریا نے عراق کے خلاف ایران کی جنگ کے دوران تہران کو عسکری ٹکنالوجی سے نوازا جس میں بیلسٹک میزائل سے متعلق ٹکنالوجی بھی شامل تھی۔ اس طویل تعلق کے نتیجے میں شمالی کوریا تہران کے لیے ممنوعہ ہتھیاروں کی تجربہ گاہ اور اسلحے کی خفیہ دْکان کی حیثیت اختیار کر گیا۔
یاد رہے کہ رواں برس ایران کے عام بجٹ میں پاسداران انقلاب کے بجٹ میں 24فیصداضافہ کر دیا گیا ہے۔ پاسداران کی قیادت کے مطابق بجٹ میں اضافے کا زیادہ تر حصہ میزائلوں کی تیاری اور میزائل پروگرام کو ترقی دینے پر خرچ کیا جائے گا۔ایرانی صدر حسن روحانی نے یہ اقدام اس لیا کیا تا کہ 19 مئی کو مقررہ صدارتی انتخابات سے قبل پاسداران انقلاب فورس اور اس کے ہمنوا گروپوں کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ روحانی نے دفاعی بجٹ میں 14 ارب ڈالر کا اضافہ کیا جس میں 53فیصدحصہ پاسداران انقلاب کو گیا۔ایرانی سپریم رہ نما علی خامنہ ای نے 21 مارچ 2017 کو اپنے ایک خطاب میں میزائل پروگرام کی ترقی کو بھرپور انداز سے سراہا۔ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ " کیا یہ معمولی بات ہے کہ دور مار کرنے والے ایسے میزائل تیار کر لیے جائیں جو دو ہزار کلو میٹر کے فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنائیں جب کہ غلطی کا مارجن دو سے پانچ میٹر کے درمیان ہو؟۔ایرانی مسلح افواج کی اسٹاف کمیٹی کے سابق سربراہ حسن فیروز آبادی نے 12 نومبر 2016 کو کہا تھا کہ کسی بھی نوعیت کا میزائل علی خامنہ ای کے براہ راست حکم کے بغیر نہیں داغا جاتا۔
 


Share: